Rules of Doing a Wazifa

Rules of Doing a Wazifa,” وظائف کرنے کے اصول

کوئ بھی وظيفۂ کرنے سے  پہلے ان ھدایات کو پڑھيں

آپ کی حاجت شرعی ہے۔

کسی مخصوص شخص سے شادی کے ليے يا غير محرم سے محبت کے ليے وظيفہ کرنا حرام ہے ۔ اور يہ قرآن کو کالے جادو کے ليے استعال کرنے کے مترادف ہے۔

جوجادو کرے گا يا کرواۓ گا وہ اسی وقت کافر ہو جاۓ گا اورسواۓ کسی ولی اللہ کے کوئ اسے دوبارہ ايمان نہ دے سکے گا۔ اس کی توبہ بھی قبول نہ ہو گی۔

آيات کو صحیح تلفظ سے پڑہنا لازم  ہے
دوران وظيفہ 5 وقت نماز لازم ہے۔ اس کے بغير للہ سے دعا کی قبوليت کی اميد نہ رکھيں
– آمدنی ميں اگر 1 روپيہ بھی حرام ہو گا وظيفہ قبول نہيں ہو گا
وقت اور جگہ کا ابک ہونا اشد ضوری ہے-اگر آپ کو مجبورا کہيں جانا پڑ جاۓ تو جس مصلے پر آپ وظيفہ پڑھتے ھيں اسے ساتھ لے جاہيں
– دوران وظيفہ وضو لازم ہے
– دوران وظيفہ اسلامی لباس پہننا اورحجاب کرنا لازم ھے
– دوران وظيفہ کمرے ميں اکيلا ہونا چاہيے اور بعض وظايف کے ليے لازم ہے۔-
دوران وظيفہ نہ تو کسی سے بات کر سکتے ہيں نہ ہی اشارے سے کام لے سکتے ہيں اور نہ ہی موباۂل فون کا استعمال کر سکتے ہيں-
مرد حضرات دوران وظيفہ اگر ہو سکے تو شيو نہ کريں۔
دوران وظيفہ عطر کا استعمال کريں۔ دوران وظيفہ ملائکہ کا نزول ہوتا ہے۔ وہ بدبو سخت ناپسند کرتے ہيں- آپ کی دعا يہی فرشتے اللہ کو پہنچاتے ہيں۔ ہو سکے تو اگربتی بھی جلائيں-
اگر آپ کو جواب خواب ميں ديکھنا ہے توہو سکے تو زمين پر ايسے سوئيں جيسے آپ کے علاقے ميں مردے دفن کيے جاتے ہيں۔ يعنی روبقبلہ ہو کرسوئيں۔
–  دوران وظيفہ غيبت اور جھوٹ بولنا سختی سے منع ہے۔
دوران وظيفہ ٹی وی ديکھنا آنکھوں کا زنا ہے۔اس سے سختی سے پرھيز کريں۔
وظيفہ شروع کرنے سے پہلےصرف ايک دفعہ 2 رکعت نماز توبہ ادا کريں اور سچے دل سے گناہوں سے توبہ کريں
اگر وظيفہ کسی نبی يا صحابی يا ولی يا شہيد يا صالح مسلم کی قبرپر يا مسلم قبرستان ميں کريں گے تو فورا قبول ہو گا۔

دوران وظيفہ بددل ہو کرہرگزنہ رکيں ۔ يہ آپ کا نفس ہے يا شيطان جو آپ کو روکنے کی کوشش کر رھے ہيں۔
اگرحاجت مقررہ وقت ميں پوری نہيں ہوتی تو وظيفہ جاری رکھيں۔  بددل يا نااميد ہو کرہرگزنہ رکيں۔ چاہے 6 مہينے ہی کيوں نہ لگ جائيں۔  ہرگز ہرگز وظيفہ بند نہ کريں۔ نہ ہی وظيفہ تبديل کرنے کا سوچيں۔ جو لوگ  بددل ہو کر وظيفہ  تبديل کرتے ھيں آئندہ ان کا کوئ وظيفہ کامياب نہيں ہوتا۔ اللہ سے نااميد ہونا کفرہے۔ اس بات کا سختی سے خيال رکھيں۔

وظيفے کی قبوليت کا وقت آپ کے تقوے پر منحصر ہے اور ہر ايک کے ليے يہ وقت مختلف ہے۔
جو لوگ اولياء کرام کو نہيں مانتے يا انہيں مردہ تصور کرتے ہيں يا سمجھتے ہيں کہ وہ بعد از وفات کسی کی مدد نہيں کر سکتے وہ لوگ مرتد ہيں  اور ان کا کوئ وظيفہ يا عبادت سرے سے قبول ہی نہيں۔
وہابی اور شيعوں کو مسلم ماننے والے بھی مرتد ہيں۔

بدمذہب لوگ ، بلخوص شيعہ اوروہابی اور اولياء کرام کونہ ماننے والوں سے دور رہيں۔ جوان لوگوں سے ملتا جلتا ہے وہ ان ميں سے ہی ہے۔

آپ کی دعا سب سے پہلے آپ کے علاقے کا ولی اللہ منظورکرتا ہے پھر وہاں کا قطب پھر غوث الوقت پھر
سيدنا شيخ عبدالقادر جيلانی رحمۃ اللہ عليہ پھر سيدنا علی رضی اللہ عنہ پھر رسول اللہ صل اللہ عليہ وسلم۔
حديث — ميں قاسم (بانٹنے والا) ہوں۔اللہ نے تمام خزانوں کی چابياں ميرے حوالے کر دی ہيں

آپ ايک حاجت کے ليے يا دومختلف حاجتوں کے ليے ايک ساتھ دو وظيفے نہيں کر سکتے۔ اگر ايسا کريں گے تو کوئ وظيفہ کام نہيں کرے گا۔ ايک حاجت کے ليے دو شخص بھی کوئ  وظيفے نہيں کر سکتے۔  سواۓ کنگ آف آل وظيفہ ايک اور دو کے جو تمام خاندان بھی اکٹھا کر سکتا ہے۔

اگر آپ کسی دوسرے کے ليے وظيفہ کر رہے جو بے نمازی ہے تو  وظيفہ بالکل کام نہيں کرے کا۔
حديث–اللہ مسلم بھائ کی دعا بے نمازی مسلم بھائ کے ليے قبول نہيں کرتا۔

ہميں باربار ای ميل مت لکھيں کہ وظيفہ کام نہيں کر رہا۔ حاجت پوری ہونے تک صبروتحمل سے  وظيفہ کرتے رہيں۔

کسی بھی  وظيفہ ميں کسی بھی قسم کی تبديلی سختی سے منع ہے۔ يہ وضائف جليل القدراولياء کرام کے عطا کردہ ہيں۔ ان ميں کسی بھی قسم کی تبديلی ان کی شان ميں سخت بے ادبی اور گساخی ہے۔

Related posts

Leave a Comment